بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیمرج یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ،تین مرتبہ بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ اور ۲۰۱۰میں "ہلال پاکستان" حاصل کرنے والے معروف ترین پاکستانی صحافی نجم سیٹھی کے نام اور تصنیفات سےکون واقف نہیں۔موصوف پاکستان کے تعلیمی و سیاسی حلقوں میں" سکول آف تھاٹ" کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔سوشل سائنسزخصوصاًپولیٹیکل سائنس کے اکثر طالب علم اور اساتید اپنی صبح کا آغاز موصوف کے کالم سے کرتے ہیں۔ انہیں اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران جہاں پر۱۹۹۹میں بین الاقوامی جریدے"نیوز ویک "کی طرف سے "جانباز ایڈیٹر"کا خطاب ملا وہیں پر 1975میں ذوالفقار علی بھٹو، 1984میں ضیاء الحق اور 1999میں نواز شریف کے ہاتھوں جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔راقم الحروف بھی ایک ادنی سا طالب علم ہونے کے ناطے تقریبا گزشتہ آٹھ سالوں سے موصوف کے کالمز یا کتابوں کا وقتاً فوقتاً مطالعہ کرتا رہتاہے۔موصوف کی اپنی تمام علمی و قلمی کاوشیں،دیدہ دلیری اور صحافتی خدمات اپنی جگہ لیکن گزشتہ دنوں ان کا روزنامہ جنگ میں" ریمنڈ ڈیوس۔حقیقت اورا فسانہ..." کے عنوان سے چھپنے والا کالم ایک اور تلخ حقیقت کی غمازی کرتاہے اور وہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ موصوف کو ابھی بھی کچھ اور ایوارڈز اور القابات کا انتظار ہے۔ شاید وال اسٹریٹ جرنل سمیت متعدد بین الاقوامی اخبارات کے کالم نگار اور پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز کے چیئر مین کو اپنا یہ کالم لکھتے ہوئے یہ بات بھول گئی تھی کہ قلم کی طاقت تلوار سے زیادہ ہے اور کسی بھی موثر خطیب،ادیب یا صحافی کا ایک جملہ کسی قوم کو فکری طور پر منحرف یادرست کرسکتاہے اورکسی بھی ملت کی تقدیر سنوار یا بگاڑ سکتاہے ۔ان کےمذکورہ کالم کا ایک جملے میں خلاصہ ملاحظہ فرمائیں "مسڑ ڈیوس سفارت کار ہے لہذا جو کچھ مسٹر ڈیوس کے خلاف بولا جارہاہے وہ سب افسانہ ہے"۔یہ ہے ان کے کالم خلاصہ، اب" ریمنڈڈیوس کو جاسوس قراردینے والے دوسرے اخباروں اور چینلز کی طرف سے شواہد وثبوت لانے کے بجائے ہم یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ آج کل موصوف جس بہت بڑئے ملکی اخبار "جنگ "اورٹی وی چینل "جیو"سے وابستہ ہیں وہ بھی یہ اعتراف کر چکا ہے کہ "ریمنڈ ڈیوس سفارت کا رنہیں ہے" ۔اب قارئین خود اس پریس ریلیز کا مطالعہ کرلیں تاکہ خود یہ فیصلہ کریں کہ ریمنڈ ڈیوس سفارت کار ہے یا نہیں: "ریمنڈڈیوس کوواقعہ کے اگلے روزسفارتکارظاہرکرنیکی کوشش کی گئی اسلام آباد،لاہور (جنگ نیوز، آن لائن) جیو نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مطابق دہرے قتل کا ملزم ریمنڈ ڈیوس امریکی سفارت کار نہیں لیکن لاہورکے علاقے مزنگ چوک میں پیش آنے والے واقعے کے اگلے دن امریکی سفارت خانے نے اسے سفارت کار ظاہرکیا تھا،25جنوری کو وزارت خارجہ کو بھیجی جانے والی سفارت کاروں کی فہرست میں ریمنڈ ڈیوس کا نام شامل نہیں تھا۔ امریکی سفارت خانے کی طرف سے ریمنڈ ڈیوس سے متعلق وزارت خارجہ کو فراہم کردہ دستاویز میں واضح طورپر غیرسفارتی شناختی کارڈ کے اجرا کی درخواست کی گئی ہے۔ 20جنوری 2010ء کوامریکی سفارت خانے کی طرف سے وزارت خارجہ کو بھیجی گئی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی امریکی سفارت خانے میں ذمہ داری انتظامی اورتکنیکی اسٹاف کی ہے، وہ 18اکتوبر2009ء کو پاکستان پہنچا اور امریکی سفارت خانے کے کمپاوٴنڈ اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر ہے۔ دستاویز میں منسلک پرفارمے، ریمنڈ ڈیوس کے پاسپورٹ کی نقل اور چھ تصویروں کا بھی ذکرکیاگیاہے۔" موصوف نے اپنے کالم میں " ریمنڈڈیوس" کو سفارتکار ثابت کرنے کے لئے جو اعداد و شمار منظر عام پر لائے ہیں وہ یقینی طور پر انہیں کسی طرف سے فراہم کئے گئے ہیں اور ان سے پتہ چلتاہے کہ شاید اگلے چند دنوں میں ریمنڈڈیوس کو سفارت کار ثابت کردیا جائے اور باقی سب کچھ افسانے میں ڈھل جائے۔ ظاہر ہے جب ہم خود ریمنڈڈیوس کو اس کی بہترین نشانہ بازی پر شاباش دیں گے توپھر امریکی اس کی جرات اور بہادری پر اسے دادشجاعت کیوں نہیں دیں گے اور پھر وہ کوئی دہشت گرد تھوڑا ہے کہ اسےجیلوں میں گلنے سڑنے کے لئے چھوڑدیاجائے،وہ تو امریکن نیشنلٹی ہولڈر ہے، ایک سپرپاور کا ملازم ہے جبکہ یہ قتل ہونے والے۔۔۔تو ۔۔۔ڈاکو ہیں۔۔۔ اے کاش ہم یہ سمجھ جائیں کہ آج ملت پاکستان اپنوں کی روشن فکری اور غیروں کی تنگ نظری کے باعث ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے کہ اب اسے مشکلات کے بھنور سےموجودہ حالات کا صحیح ادراک ہی نکال سکتاہے۔ایسے موقعہ پر اگر حق کو باطل کے ساتھ ملاکر،سچ کو جھوٹ کے ساتھ مخلوط کر کے اور حقیقت کو افسانہ بنا کر پیش کیا جائے تو ہماری ملت ماضی کی طرح آج بھی دوستوں کو دشمن اور دشمنوں کو دوست سمجھتی رہے گی۔یہ ہماری قلمی و صحافتی طاقت کے غلط استعمال ہونے کانتیجہ ہے کہ ہماری ملت فیصلہ کن حالات میں آمروں کو پچھاڑ نہیں سکتی،ایجنسیوں کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی اور دوست و دشمن ،غدار و وفادار کے درمیان فرق نہیں کرسکتی۔چنانچہ ہمارے ہاں قومی زبان اردو ہے اور سرکاری زبان انگلش ہے،ملک کانام اسلامی جمہوریہ ہے اور ہمارے حکمران "قل ھواللہ" کی تلاوت نہیں کر سکتے،طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں لیکن فوج ایوان اقتدار سے نہیں نکلتی،عدالتیں کرپشن کے خاتمے پر کمر باندھے ہوئے ہیں اور " ریمنڈڈیوس" کے مقتول کی بیوی انصاف نہ ملنے کے خوف سے خود کشی کر لیتی ہے،ایمل کانسی کو ہم کان سے پکڑ کر غیروں کے حوالے کرتے ہیں اور عافیہ صدیقی ان کی جیلوں میں سڑتی ہے،سیاستدانوں کو کرپٹ اور بد عنوان بنا کر پیش کیا جاتاہے جبکہ جرنیل انقلاب اور امام خمینی کی باتیں کرتے ہیں،عدالتیں لوگوں کو رہاکرتی ہیں ایجنسیاں اغوا کر لیتی ہیں۔آج ہماری تعلیمی پسماندگی،معاشی بدحالی اور سیاسی ابتری کا اصل ذمہ دار ہمارا وہ دانشمند طبقہ ہے جس نے ملت پاکستان کی فکری و شعوری رہنمائی نہیں کی۔اس رہنمائی نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ ہماری ملت میں دشمن ودوست کاکوئی معیار ہی نہیں ہے،ہمارے ہاں جو انقلاب کی بات کرتا ہے لوگ اسے ہیرو بنا لیتے ہیں اورجو انقلابی نعرے لگاتا ہے لوگ اسے سر آنکھوں پر بٹھا لیتے ہیں،ضیا ء الحق نظام مصطفی کا بینر اٹھا لے تو لوگ اسے امیرالمومنین کہنے پر تیار ہوجاتے ہیں اور اگر پرویز مشرف"سب سے پہلے پاکستان"کا جھنڈا لہرائے تو لوگ اسے محبّ وطن کہنا شروع کردیتے ہیں۔ہماری اس دوست و دشمن کی شناخت کمزور ہونے کا نتیجہ ہے کہ ہم نے بنگالیوں کو بنگلہ دیش بنانے پر مجبور کیا ،ہم نے افغانستان کو کبھی نہ مندمل ہونے والے زخم لگائے اورہم نے کشمیریوں کو ان کے حالات پر چھوڑ دیا ۔ آج ہمارے ہاں غیر محسوس طریقے سے ایسے حالات میں امریکی و اسرائیلی مفادات کا دفاع کیاجارہاہےکہ جب ہماری ملت کسی بھی صورت میں امریکہ و اسرائیل کی بالا دستی کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔ہمارے ہاں اب لوگ انقلاب اسلامی ایران کے بعد انقلاب مصر،تونس اور انقلاب عربستان کی باتیں کررہے ہیں،لوگ اب بھی بنگالیوں اور کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں نیز افغانیوں اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں،لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان استعمار کے غلبے سے نجات حاصل کرئے،افغانیوں کے قاتل جرنیلوں کو سولی پر لٹکایاجائے،مسئلہ کشمیر کواوّلین ترجیح دی جائے،ہماراایٹم بم فلسطینیوں کی ہمت بندھائے،ہماری ۱۸کروڑ عوام اسرائیل کے لئے خطرے کا الارم بنے،ہمارے سائنسدان اور انجینئر ملک کو اس کے قدموں پر کھڑا کریں اور ہمارا ملک ،پورے عالم اسلام کی رہنمائی اور قیادت کرئے۔ کیا ملت پاکستان کے اس سوا اور کچھ چاہتی ہے۔۔۔؟ آپ جائیں سروئے کر کے دیکھ لیں ۔۔۔یہ ملت، استعماری ایجنٹوں،بکنے والی سیاسی بھیڑوں اور امت مسلمہ سے خیانت کرنے والےفوجی بھیڑیوں کو تختہ دار پر لٹکانا اور انگریزوں کے غلبےسے نجات پاناچاہتی ہے۔ آج ضرورت ہے۔۔۔ضرورت ہے۔۔۔کہ ہم "ریمنڈڈیوس" کو شاباش کہنے کے بجائے اپنی ملت کی صحیح فکری اور علمی رہنمائی کریں۔موجودہ حالات میں ہمیں اتناخیال تو رکھنا چاہیے کہ کہیں پر امریکہ ہمارے ہی قلم سے ہماری ملت کے شعور وارتقاء پر وار تو نہیں کر رہا اور ہم اپنی ملت کے خلاف فوجی آمروں اور سیاسی کالی بھیڑوں کا ہاتھ تو نہیں بٹارہے۔اب ہمیں "ریمنڈڈیوس" کوصرف اس لئےشاباش نہیں دینی چاہیے کہ اس کے بدلے میں امریکہ بھی ہمیں شاباش دے گا۔۔۔ایوارڈز اور القابات ملیں گے۔۔۔
.........
/110